ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک: بیلگاوی میں ہندو لڑکی کے عاشق ارباز کا بہیمانہ قتل ۔ والدہ نے ظاہر کیا لڑکی کے والد اور رام سینا لیڈر پر شک

کرناٹک: بیلگاوی میں ہندو لڑکی کے عاشق ارباز کا بہیمانہ قتل ۔ والدہ نے ظاہر کیا لڑکی کے والد اور رام سینا لیڈر پر شک

Sun, 03 Oct 2021 12:38:20    S.O. News Service

بیلگاوی 3/ اکتوبر (ایس او نیوز) بیلگاوی ریلوے پولیس اسٹیشن کی حدود میں ارباز آفتاب ملا نامی ایک 24 سالہ نوجوان کا بہیمانہ قتل ہوا ہے جو کہ ایک ہندو لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا۔ اطلاع کے مطابق 28 ستمبر کو ریلوے ٹریک سے ارباز  کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی اور پوسٹ مارٹم کی بنا پر شبہ ظاہر کیا گیا  تھا  کہ یہ قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  بیلگام کے اعظم نگر کا رہائشی ارباز سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر چکا تھا اور بیلگام شہر میں کار ڈیلر کا کام کرتا تھا۔  قتل کے بعد پولیس کے پاس درج کی گئی اپنی شکایت میں ارباز کی والدہ ناظمہ شیخ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قتل لڑکی کے والد کے علاوہ رام سینا لیڈر مہاراج اور دیگر افراد نے مل کر بدلہ کی کارروائی کے طور پر انجام دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قوم کی لڑکی سے پیار ہی ان کے فرزند کے قتل کا سبب ہوا ہے۔  کیونکہ اس عشق کے چلتے مہاراج اور دیگر لوگوں کی طرف سے ارباز کو فون پر دھمکیاں مل رہی تھیں ۔  اس کے علاوہ گزشتہ اتوار کے دن مہاراج نے ارباز اور ناظمہ کو سنسان علاقے میں بلانے اور دھمکانے کے ساتھ  لڑکی سے تمام تعلقات ختم کرنے اور تصاویر ڈیلیٹ کرنے کو کہا تھا اور رقم کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں ان لوگوں کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کی بھی دھمکی دی تھی ۔ 

 ناظمہ کے بقول مہاراج نے کہا تھا کہ اس پر اب تک 40 مقدمات درج ہوچکے ہیں ، اب اگر ایک اور مقدمہ بنتا ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں ۔ ناظمہ کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے کام سے باہر جاکر واپس لوٹی تو ارباز گھر پر موجود نہیں تھا ۔ پھر کسی نے فون کرکے بتایا کہ ارباز کا فون ملا ہے اور اس کے بعد اس کی لاش ملی۔ اس کے ہاتھ اور پیر باندھ کر بہیمانہ انداز میں اس کا قتل کیا گیا ہے ۔  کچھ لوگ عشق کی وجہ سے میرے بیٹے کی خود کشی کی بات کہہ رہے ہیں ، اگر ایسا ہے تو پھر اس کے ہاتھ پاوں کیسے بندھے ہوئے ہوسکتے ہیں ۔ یہ سیدھا سیدھا قتل کا معاملہ ہے اور میرے بیٹے کو اس سلسلے میں انصاف ملنا چاہیے ۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لکشمن نمبارگی نے کہا کہ پولیس واردات کے ہر زاویہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ قصورواروں کو پکڑنے کے لئے ٹیم بھی تشکیل  دی گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ پولیس نے لڑکی کے کنبہ کے متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔

 معلوم ہوا ہے کہ ناظمہ کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مہاراج، ارباز کی معشوقہ شویتا کے والد کمبار اور بیرجے کے نام بطور ملزم ایف آئی آر میں درج تو کرلیے ہیں ، مگر تاحال ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں بین المذاہب تعلقات کے سبب متعدد افراد کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے معاملات درج  ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جون میں ایک دلت شخص اور اس کی مسلمان ساتھی کو مبینہ طور پر لڑکی کے خاندان والوں نے قتل کر دیا تھا جبکہ مئی 2018 میں راجستھان کے بیکانیر ضلع میں ایک مسلمان شخص کو مبینہ طور پر لڑکی کے کنبہ کے افراد نے قتل کر دیا تھا۔

 


Share: